NO BRANDED MEDICINES
Why prescribing of branded medicines isn't ethical?
آخر ادویات کو کسی برینڈ کے نام سے لکھنا کیوں غلط ہے؟
- Financial incentives: Pharmaceutical companies often offer perks, gifts, or sponsorships to doctors who prescribe their branded drugs, creating a conflict of interest.
- We never accept commissions from pharmaceutical companies. We prescribe only the generic/original medication name and dosage. This empowers you to choose the brand and price point that fits your budget, guided by our unbiased medical expertise.
- Our medical philosophy is rooted in unbiased care. We strictly prescribe medications by their generic/original names and dosages, ensuring our advice is never influenced by pharmaceutical commissions. This gives you the freedom to choose the brand and price point that fits your budget.
- Bias in prescribing: Doctors may favor a brand not because it’s better, but because of the benefits they receive, compromising patient-centered care
- Hidden marketing influence: Branded prescriptions can be driven more by aggressive marketing than by medical necessity
- Increased patient costs: Branded drugs are usually more expensive than generics, burdening patients financially without added therapeutic value.
- Erosion of trust: Patients may lose confidence in their doctor’s integrity if they suspect prescriptions are influenced by external rewards.
- Undermining ethical practice: Accepting branded incentives shifts focus from evidence-based medicine to profit-driven decisions.
معاشی فوائد
یہ ایک جانی مانی بات ہے اور دنیا جہاں میں اس پر بہت کچھ اخبارات اور خبروں میں آ بھِی چکا ہے کے فارماسیوٹیکل کمپنیاں ڈاکٹروں کو اپنی ادویات تجویز کرنے کے عوض تحفے تحائف، سپانسرشپس کی پیشکش اور غیرملکی دورے تک کرواتی ہیں
ہم ایسا نہیں کرتے
ہمارے کلینک پر ہم کسی برینڈ کے نام کی ترویج نہیں کرتے، ہماری پوری کوشش یہی ہوتی ہے کے ہم کسی کمپنی کے نام سے ادویات کو تجویز کرنے کی بجائے دوائی کا اصل نام لکھیں،، اس سے مریض کو اپنی مرضی کی کمپنی کی دوائی خریدنے کا حق مل جاتا ہے، جو کے اس کے بجٹ کے مطابق ہوتی ہے اور جس پر وہ مطمئن ہوتا ہے
ادویات تجویز کرنے میں تعصب
ڈاکٹر کسی برانڈ کی حمایت کر سکتے ہیں اس لیے نہیں کے یہ بہتر ہے، بلکہ اس لیے کہ انھیں حاصل ہونے والے فوائد اتنے زیادہ ہوتے ہیں کے وہ مریضوں پر مرکوز دیکھ بھال سے سمجھوتہ کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارا طبی نظریہ غیرجانبدارانہ دیکھ بھال میں جڑا ہوا ہے۔ ہم ادویات کو ان کے عام/اصل ناموں اور خوراکوں کے مطابق سختی سے تجویز کرتے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہمارے مشورے کبھی بھی فارماسیوٹیکل کمیشن سے متاثر نہ ہوں۔ اس سے آپ کو اپنے بجٹ کے مطابق برانڈ اور قیمت کا انتخاب کرنے کی آزادی ملتی ہے
مریضوں کے اخراجات میں اضافہ
برانڈڈ دوائیں عام طور پر زیادہ مہنگی ہوتی ہیں اور بغیر کسی اضافی علاج کے مریضوں پر مالی بوجھ ڈالتی ہیں۔ اسکے علاوہ برانڈڈ نسخے طبی ضرورت سے زیادہ جارحانہ مارکیٹنگ کے ذریعے چلائے جاتے ہیں
مریض کا ڈاکٹر پر اعتماد
مریض اپنے ڈاکٹر کی دیانتداری پر اعتماد کھو سکتے ہیں اگر انہیں شک ہو کہ ڈاکٹر نے نسخہ اس کی بیماری کی مناسبت سے نہیں بلکہ فارماسیوٹیکل کمپنی کے کمیشن سے متاثر ہو کر لکھا ہے، جبکہ ہمارے لئے آپ کا ہم پر اعتماد ہی سب کچھ ہے
Why We Should Prescribe Medicines by Generic Names?
ہمیں ادویات کو ان کے اصل نام سے ہی کیوں تجویز کرنا چاہیے؟
- Transparency: Generic names clearly identify the active ingredient, avoiding confusion created by multiple brand names.
- Cost-effectiveness: Generics are typically cheaper, making healthcare more accessible and reducing financial strain on patients.
- Consistency in treatment: Prescribing by generic name ensures patients can access equivalent medicines regardless of brand availability.
- Patient empowerment: Patients can make informed choices when they know the actual drug substance rather than just a brand label.
- Ethical integrity: Using generic names eliminates undue influence from pharmaceutical marketing and keeps prescribing decisions purely medical.
- Global standardization: Generic prescribing aligns with WHO recommendations and international best practices for safe, rational drug use.
ادویات تجویز کرنے میں شفافیت
ادویات کے عام نام واضح طور پر فعال اجزاء کی شناخت کرتے ہیں اور اسطرح متعدد برانڈ ناموں سے پیدا ہونے والی الجھن سے بچتے ہیں
سستی لیکن معیاری ادویات
ادویات اگر اصل نام سے لکھی جاہیں تو عموماً بہت سستی پڑتی ہیں، کیونکہ ہر کمپنی کی اپنی قیمت ہوتی ہے، اسلئے اگر آپ کو اصل نام کا علم ہو تو مریض اپنی پسند کی کمپنی کی دوائی لے سکتا ہے
ادویات کا معیار ایک جیسا رہتا ہے
ادویات کو ان کے اصل اور عام نام سے تجویز کرنا یقینی بناتا ہے کہ مریض برانڈ کی دستیابی سے قطع نظر اچھی، سستی اور معیاری ادویات تک رسائی حاصل کر سکے چونکہ ادویات کے اصل نام پوری دنیا میں ایک ہی ہوتے ہیں تو ہمارا نسخہ مریض دنیا کے جس مرضی کونے میں لے جائے اور جس مرضی ڈاکٹر کو دکھائے اسے نسخہ سمجھنے میں کوئی الجھن نہیں ہو گی
مریض کو اختیار دینا
مریض اس وقت باخبراور بہتر انتخاب کر سکتے ہیں جب وہ صرف ایک برانڈ لیبل کے بجائے ادویات کے اصل نام کو جانتے ہوں اسطرح ڈاکٹر اور مریض دونوں ہی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی غیر ضروری مارکیٹنگ اور اثرورسوخ سے بچ جاتے ہیں
عالمی معیار کے مطابق ادویات تجویز کرنا
دینا کے بیشتر ممالک میں ادویات کو ان کے اصل نام سے ہی تجویز کیا جاتا ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگناہزیشن بھی یہی کہتی ہے کے ادویات کو ان کے اصل نام سے تجویز کیا جائے، اسطرح ڈاکٹر کا لکھا گیا نسخہ عالمی معیار کے مطابق بن جاتا ہے اور پھر جہاں مرضی جاہیں یہ نسخہ پوری دنیا میں قابل عمل ہوتا ہے